Posts

تاج الشریعہ اور یاد مدینہ از مولانا عمران رضا مدنی بنارسی

Image
تاجُ الشریعہ اور یادِ مدینہ مولف: مولانا عمران رضا مدنی بنارسی نبی اکرم ﷺ سے محبت کرنے والوں کو حضور ﷺ سے نسبت رکھنے والی ہر ہر چیز سے محبت ہوتی ہے۔ حضرت تاجُ الشریعہ نہ صرف عاشقِ رسول بلکہ عاشقِ رسول بنانے والے تھے، آپ سے وابستہ ہو کر ہزاروں کے دل عشقِ رسول سے سرشار ہو گئے۔ چونکہ شہرِ مصطفیٰ مدینۂ منورہ کو خاص نسبت ہے نبی اکرم ﷺ سے، خود ہمارے آقا ﷺ مدینۂ منورہ  سے حد درجہ محبت فرمایا کرتے تھے، تو عاشقانِ رسول بھی مدینۂ منورہ سے ٹوٹ کر محبت کرتے ہیں۔ اس جہت سے حضور تاجُ الشریعہ کی ذات کو دیکھیں تو آپ کو بھی مدینۂ منورہ سے انتہا درجے کی محبت تھی۔ صرف آپ کے نعتیہ دیوان "سفینۂ بخشش" کو دیکھیں تو معلوم ہو کہ جگہ بہ جگہ محبتِ مدینہ پر اشعار یہ بتا رہے ہیں کہ آپ کو عشقِ مدینہ کس قدر حاصل تھا۔ فراقِ مدینہ میں آپ فرماتے ہیں: فرقتِ طیبہ کی وحشت دل سے جائے خیر سے میں مدینے کو چلوں وہ دن پھر آئے خیر سے دل میں حسرت کوئی باقی رہ نہ جائے خیر سے راہِ طیبہ میں مجھے یوں موت آئے خیر سے میرے دن پھر جائیں یا رب شب وہ آئے خیر سے دل میں جب ماہِ مدینہ گھر بنائے خیر...

اللہ و رسول سے خیانت

Image
اللہ و رسول سے خیانت از : مولانا عمران رضا مدنی بنارسی   صحابیِ نبی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے، اور سنت کو ترک کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیانت کرنا ہے۔" ["اے ایمان والو!"، ص: 341، از: مفتی قاسم عطاری] انسان اور امانتِ اعضاء: یونہی انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو اعضاء عطا فرمائے ہیں، یہ اس کے پاس خدا کی امانت ہیں۔ انہیں ناجائز کاموں میں استعمال کر کے امانت میں خیانت نہ کی جائے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: "اللہ عزوجل نے انسان کی شرم گاہ کو پیدا کیا تو فرمایا: 'یہ ایک امانت ہے جو میں نے تیرے سپرد کی ہے، اسے حق کے علاوہ قابو میں رکھ۔'" کسی کا قول ہے: انسان کا معاملہ اپنے رب تعالیٰ کے ساتھ یہ ہے کہ وہ مامورات پر عمل کرے اور منہیات سے اجتناب کرے۔ کیونکہ انسان کا ہر عضو اللہ عزوجل کی امانت ہے۔ زبان میں امانت یہ ہے کہ انسان اسے جھوٹ، غیبت، چغلی، بدعت اور بدکلامی میں استعمال نہ کرے۔ آنکھ میں امانت یہ ہے کہ اسے حرام اشیاء دیکھنے میں استعمال نہ کرے...

سیرتِ تاجُ الشریعہ علیہ الرحمہ | حضرت مفتی اختر رضا خان قادری برکاتی کا علمی و روحانی تعارف

Image
سیرتِ حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ از قلم: محمد کامران رضا گجراتی متعلم: جامعۃ المدینہ فیضان اولیاء، احمدآباد، گجرات دنیا میں کچھ شخصیات ایسی بھی ہوتی ہیں، جو اپنے تعارف میں کسی کے محتاج نہیں ہوتیں، بلکہ ان کی ذات، نام اور کام ہی ان کی پہچان و تعارف بن جاتا ہے۔ انہی شخصیات میں ایک شخصیت وارثِ علومِ اعلیٰ حضرت، جانشینِ حضور مفتی اعظم ہند، قاضی القضاۃ فی الہند، حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ مولانا مفتی اختر رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کی ہے۔ آپ وارثِ علومِ اعلیٰ حضرت، حضور حجۃ الاسلام کے مظہر، حضور مفتی اعظم ہند کے سچے جانشین اور مفسرِ اعظم ہند کے لختِ جگر ہیں۔ ان عظیم نسبتوں کا فیضان آپ کی شخصیت میں جھلک رہا ہے۔ اب ہم آپ علیہ الرحمہ کی سیرت مختصر انداز میں پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ولادت با سعادت آپ کی ولادت با سعادت کاشانۂ رضا، محلہ سوداگران، بریلی میں 14 ذی القعدہ 1361ھ مطابق 23 نومبر 1942ء ، بروز منگل ہوئی۔ (فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد 1، ص 28) اسمِ گرامی آپ حضرت مفسرِ اعظم ہند، حضرت علامہ محمد ابراہیم رضا رحمۃ اللہ علیہ کے فرزندِ ارجمند ہیں۔ دستورِ خاندان کے مط...

Muballige islam hazrat Abdul mubeen nomani misbahiمبلغِ اسلام، علامہ عبد المبین نعمانی مصباحی دامت برکاتہم القدسیہ

Image
حالتِ علالت میں "ICU وارڈ" میں تحریری کام آج 27 اپریل، بروز اتوار، صبح "پڑاؤ" (بنارس) "لطیف ہاسپٹل" میں مبلغِ اسلام، علامہ عبد المبین نعمانی مصباحی دامت برکاتہم القدسیہ کی عیادت کے لیے حاضری ہوئی۔ حضرت نعمانی صاحب پچھلے دس دنوں سے ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہیں۔ بحمدہ تعالیٰ طبیعت میں پہلے سے افاقہ ہے اور ان شاء اللہ جلد گھر بھی آجائیں گے۔ نعمانی صاحب عالمِ باعمل، صوفیِ باصفا، مبلغِ اسلام، رہنمائے قوم و ملت، محسنِ ملت، ماہرِ قرطاس و قلم ہونے کے ساتھ ساتھ زبردست پیرِ طریقت بھی ہیں۔ آپ کئی بہترین اوصاف کے حامل بزرگ ہیں۔ دین پر سختی سے عمل کرنا آپ کی پاکیزہ خصلت میں شامل ہے۔ ICU میں ایڈمٹ ہونے کے باوجود بھی نماز کا اہتمام کرنا اور وقت پر نماز ادا کرنا آپ کا خوبصورت وصف ہے۔ آج نعمانی صاحب کے پاس حاضری ہوئی تو ایک مسودہ دکھانے لگے اور فرمایا کہ: "چند دن پہلے ICU میں تھا تو سوچا، بیٹھے بیٹھے کچھ لکھ ہی لوں!" پھر چند صفحات دکھائے، جن پر مضامین درج تھے۔ دو عنوانات یہ تھے: کیا آپ مصنف بننا چاہتے ہیں؟ یہ راتوں کے سپاہی جن میں کئی نصیحت آموز باتیں موجود تھیں۔ ...

What is travel??سفر کیا ہے

Image
  سفر کیا کریں! سفر آپ کو بہت کچھ سکھاتا ہے۔ سفر سے چیزیں کھلتی اور واضح ہوتی ہیں۔ سفر کرنے سے انسانی صلاحیت و قابلیت میں حد درجہ اضافہ ہوتا ہے۔ سفر انسان کو مختلف ذہنیت اور افکار کے لوگوں سے ملاقات کراتا ہے۔ لہٰذا آپ بھی سفر کیا کریں۔ آپ کی صلاحیتوں میں نکھار آئے گا، آپ کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بڑھے گی۔ سفر محض ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کا نام نہیں بلکہ تجربات، علم اور آگاہی کے دروازے کھولنے کا ایک بہترین ذریعہ بھی ہے۔ جو لوگ سفر کرتے ہیں، وہ نئی جگہوں، تہذیبوں، زبانوں اور مختلف ذہنیت کے حامل لوگوں سے مل کر زندگی کے کئی اہم اسباق سیکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے بزرگانِ دین کی سیرت میں سفر کا ایک طویل باب پڑھنے کو ملتا ہے۔ انہوں نے علم و ادب کے حصول کے لیے نہ صرف ایک شہر سے دوسرے شہر، بلکہ دور دراز ملکوں تک کا سفر اختیار کیا، اور اپنی صلاحیتوں کو دنیا جہان کے سامنے پیش کیا۔ اگر صرف بزرگوں کے اسفار پر کتابیں لکھی جائیں تو جلدیں تیار ہو جائیں! سفر، شخصیت میں نکھار پیدا کرتا ہے سفر انسان کو خودمختاری اور خود اعتمادی سکھاتا ہے۔ راستے میں پیش آنے والی مشکلات، مصیبتیں اور غیر متوقع ...

غم سے دوچار ہیں فلسطینی از: مصباحُ الحق قادری مدنی راغب

Image
 غم سے دوچار ہیں فلسطینی از:مصباحُ الحق قادری مدنی راغب فیضِ سرکار ہیں فلسطینی، عاشقِ زار ہیں فلسطینی۔ فقر و فاقہ کی دھوپ ہے سر پر، آہ! نادار ہیں فلسطینی۔ المدد دافعِ غمِ ملّت، غم کے کہسار ہیں فلسطینی۔ غمگسارِ جہاں دہائی ہے، غم سے دوچار ہیں فلسطینی۔ اے نگہبانِ کشتیٔ اُمت! قربِ منجدھار ہیں فلسطینی۔ آہ! وہ بنتِ حوّا کی چادر، سرِ بازار ہیں فلسطینی۔ ہے فلسطین میری آنکھوں میں، ذہن و افکار ہیں فلسطینی۔ لفظ، خُونِ الم سے ہے رنگیں، میرے اشعار ہیں فلسطینی۔ حشر میں دیکھ لیں گے ظالم بھی، جیت یا ہار ہیں فلسطینی۔ تیغِ انصاف سے ستم کا بھی، کاٹتے ہار ہیں فلسطینی۔ خاک آلود ناک ہو اُس کی، جو کہے خوار ہیں فلسطینی۔ ظلم کی داستان مت چھیڑو، لب پہ، اے یار! ہیں فلسطینی۔ کوہِ صبر و رضا بھی وہ ٹھہرے، نیک اطوار ہیں فلسطینی۔ جامِ عشقِ شہِ دو عالم بھی، پی کے سرشار ہیں فلسطینی۔ نوکِ تیر و کماں پہ بھی کرتے، ذکرِ غفار ہیں فلسطینی۔ دامنِ صبر بھی ہے ہاتھوں میں، اہلِ کردار ہیں فلسطینی۔ شکوۂِ رنج بھی نہیں کرتے، شیریں گفتار ہیں فلسطینی۔ وہ ہیں دینِ الٰہی کے فوجی، حزبِ غفار ہیں فلسطینی۔ دشمنانِ نبی کو بھی کرتے، ...

Sirat e imam Bukhari Mohammad kamran raza gujarati

Image
سیرت امام بخاری علیہ الرحمہ از: محمد کامران رضا مھلیج گجرات متعلیم: جامعۃ المدینہ احمدآباد گجرات نام و نسبت اسم گرامی محمد، کنیت ابو عبد اللہ، لقب امیر المؤمنین فی الحدیث، حافظ الحدیث، ناصر الأحاديث النبویہ، سید الفقہاء والمحدثین، امام المسلمین۔ آپ کا سلسلہ نسب یہ ہے: محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرہ بن بَرْدِزُبہَ بخاری جعفی۔ آپ کے جد اعلیٰ مغیرہ نے حاکم بخارا کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا، اس لیے آپ کو جعفی کہا جاتا ہے۔ ولادت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 13 شوال 194ھ، جمعہ کے روز (ازبکستان کے ایک شہر) ”بخارا“ میں ہوئی۔ (نزھۃ القاری، ج:1، ص:50) امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے والد ماجد امام بخاری علیہ الرحمہ کے والد محترم حضرت اسماعیل بن ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد اور ولی کامل حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کے صحبت یافتہ تھے۔ ان کے تقویٰ و پرہیزگاری کا یہ عالم تھا کہ اپنے مال و دولت کو شبہات (ایسی چیزیں جن کے حلال یا حرام ہونے میں شبہ ہو) سے بچاتے۔ انتقال شریف کے وقت آپ نے ارشاد فرمایا: "میرے پاس جس قدر مال ہے، میرے ...