Posts

Showing posts with the label نحو و صرف

لفظ اِدْغَام درست ہے یا اِدِّغَام؟

Image
لفظ اِدْغَام درست ہے یا اِدِّغَام ؟ جواب: جی دونوں طرح درست ہے اگر اِدْغَام ہو تو باب اِفْعال سے ہوگا اور اگر اِدِّغَام ہو تو باب افتعال سے ہوگا اصل میں اِدْتِغَام تھا باب افتعال کا فا کلمہ دال تھا، تائے افتعال کو وجوبًا دال سے بدل کر دال کا دال میں وجوبًا ادغام کر دیا گیا۔۔۔ کوفی حضرات کی عبارات میں یہ باب اِفْعَال سے جبکہ بصری حضرات کی عبارات میں یہ باب اِفتعال سے مستعمل ملتا ہے۔۔۔  دونوں ہی صورتوں میں معنی ایک ہی ہوتا ہے ایک حرف کا دوسرے حرف میں ادغام کرنا۔۔۔ (مأخوذ أز شرح تصریف العزی للتفتازانى ص ١٤٣)

بسم اللہ کی نحوی ترکیب اور صرفی تحقیق

Image
*بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم*  *ترجمہ*  اللہ کے نام سے شروع جو بہت مہربان رحمت والا    *صرفی تحقیق*  ("با" ) سہ اقسام - حرف  (اسم) سہ اقسام - اسم  شش اقسام - ثلاثی مجرد  ہفت اقسام - ناقص واوی  (اللہ)  سہ اقسام- اسم  شش اقسام - ثلاثی مجرد  ہفت اقسام - مھموز  *لفظ (اللہ) کی تحقیق:-* أَلله : عربي [اسم] ذات واجب الوجود، معبود حقیقی کا نام (اس کی اصل آلہ ہے جس پر الف لام داخل ہے ۔ بعد میں ہمزہ کو خزف کرکے دونوں لاموں کو ادغام کردیا گیا)۔ المعانی ( الرحمٰن ) سہ اقسام - اسم مشتق صفت مشبہ  شش اقسام - ثلاثی مجرد از باب سمع ہفت اقسام - صحیح  (الرحیم)  سہ اقسام اسم مشتق صفت مشبہ  شش اقسام ثلاثی مجرد از باب سمع  ہفت اقسام صحیح  *ترکیب نحوی*   (باء) حرف جر (اسم) مجرور جار مجرور سے مل کر ظرف مستقر (اَبْتَدِی) سے ابتدی فعل انا ضمیر پوشیدہ فاعل ( اللہ ) اسم جلالت موصوف ( الرحمٰن ) صفت اول ( الرحیم ) صفت ثانی , اسم جلالت اپنے دونوں صفتوں سے مل کر مفعول بہ فعل فاعل مفعول بہ اور ظرف مستقر سے مل کر جملہ فعل...

لا محالة کی نحوی ترکیب

Image
*" لا محالة " کی نحوی ترکیب* شرح تہذیب میں اس کا استعمال ہوا ہے فَأَحَدُ الفكرين خطاء حينئذ لا محالة. " محالة" مصدر میمی ہے  اور "لا" کا اسم ہے اس کی خبر اکثر محذوف ہوتی ہے یعنی "موجودٌ"

فعل لازم سے فعل مجہول؟

Image
 *فعل لازم سے فعل مجہول؟* 🥹 ✍️کہا جاتا ہے کہ فعل لازم سے فعل مجہول نہیں آتا۔۔۔یہ درست نہیں۔ فعل لازم سے بھی فعل مجہول آتا ہے البتہ اس کی نسبت مفعول بہ صریحی کی طرف نہیں ہوسکتی۔۔ 👈مفعول بہ غیر صریحی کیv طرف ہو سکتی ہے ۔ جیسے ذُهِبَ بِزَيْدٍ 👈مصدر متصرف مختص كى طرف بھی ہو سکتی ہے جیسے سَيْرَ سَيْرٌ طويلٌ 👈ظرف متصرف مختص كى طرف بھی ہو سکتی ہے جیسے جُلِسَ مكانٌ رَحْبٌ 

ماشاءاللہ کی ترکیب

Image
 * ماشاءاللہ کی ترکیب* ما:اسم موصول مبتدا شاءاللہ:شاء فعل،اسم جلالت فاعل فعل و فاعل مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوکر صلہ۔۔ مبتدا کی خبر کان محذوف ہے کان:فعل ماضی ھو ضمیر فاعل فعل و فاعل ملکر جملہ فعلیہ خبریہ ہوکر خبر مبتدا و خبر ملکر جملہ اسمیہ خبریہ یا کائنٌ خبر محذوف ہے کائنٌ:اسم فاعل اس میں ھو ضمیر فاعل اسم فاعل فاعل سے ملکر شبہ جملہ ہو کر خبر مبتدا و خبر ملکر جملہ اسمیہ خبریہ _____________________ ماشاءاللہ کی دوسری ترکیب ما:اسم موصول خبر شاءاللہ:شاء فعل،اسم جلالت فاعل فعل و فاعل مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوکر صلہ۔۔ مبتدا محذوف ہے اور وہ ہے ھٰذا مبتدا و خبر ملکر جملہ اسمیہ خبریہ نوٹ:ما کے موصولہ ہونے کی صورت میں عائد محذوف ہے اصل میں یوں تھا ماشاءہ اللہ کان او کائن ________________________ ماشاءاللہ کی تیسری ترکیب ما اسم شرط مفعول بہ مقدم شاءاللہ: شاء فعل اسم جلالت فاعل۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ مقدم سے ملکر جملہ فعلیہ کر شرط جزا محذوف کی اور وہ ہے کان کان:کان فعل ھو ضمیر فاعل فعل اپنے فاعل سے ملکر جملہ فعلیہ ہوکر جزا۔۔۔ شرط و جزا ملکر جملہ شرطیہ

لفظ اشياء کی تحقیق

Image
*لفظ اشياء کی تحقیق*  «اشياء» کے متعلق 5 مذاھب ہیں: 1️⃣ پہلا مذھب امام سیبویہ، خلیل، مازنی اور جمہور بصریین کا ہے کہ یہ اسم جمع ہے( جو جمع نہ ہو پر جمع کا معنی دے)، اس کی اصل شیئاء بروزن حمراء ہے، دو ہمزہ جمع ہونے کی وجہ سے ثقل پیدا ہوا تو اہل عرب نے اسے بدل کر اشیاء کر دیا، یہی وجہ ہے کہ یہ اسم ممدود ہونے کی وجہ سے غیر منصرف پڑھا جاتا ہے۔ 2️⃣ امام فراء نے کہا کہ اشیاء یہ شیء کی جمع ہے اور شیء کی اصل شَيِّئ بروزن فَيْعِل ہے پھر تخفیفا شیء کردیا گیا جیسے مَيّت سے میت، تو اس کی اصل أَشْيِئاء بروزن افعلاء پھر ثقل کی وجہ سے پہلے ہمزہ کو یاء سے بدل دیا گیا تو اشییاء ہو گیا اب دو یاء جمع ہوگئے تو تخفیفا پہلی یاء کو گرا دیا گیا تو اشیاء ہو گیا۔ 3️⃣ امام اخفش نے کہا اشیاء یہ شیء کی جمع ہے نہ کہ شَيِّئ کی، اصل میں أَشيئاء تھا، پھر اشییاء پھر اشیاء کردیا گیا۔ 4️⃣ امام کسائی اور ابو حاتم نے کہا کہ یہ شیء کی جمع ہے افعال کے وزن پر جیساکہ بیت کی جمع ابیات اور ضیف کی جمع ابیات آتی ہے یعنی اشیاء اپنی اصل پر ہے، (أجمع البصريون وأكثر الكوفيين على أن قولَ الكسائي خطأ)۔ 5️⃣ اشیاء یہ شَ...

غالباً کی نحوی ترکیب

Image
* غالباً کی نحوی ترکیب*   (1) منصوب بنزع الخافض ہے جیسے يُسَافِرُ أخی غَائِباً يَوْمَ الخَمِيسِ یعنی فی الاغلب ۔ ترجمہ :- میرے بھائی صاحب عموما جمعرات کے دن سفر کرتے ہیں ۔  (۲) مفعول فیہ ظرف زمان کی تاویل میں ہے جیسے اَزُورُ استادی یوم الخميس غالبا ایْ في غالب الأوقات (میں اکثر جمعرات کے دن اپنے استاذ سے ملاقات کرتا ہوں) 

ماء کی صرفی تحقیق

Image
مَاءٌ اصل میں مَوَهٌ تھا، واؤ متحرک ماقبل مفتوح تھا تو واؤ کو الف سے تبدیل کر دیا تو مَاهٌ ہوگیا پھر خلاف قیاس ہا کو ہمزہ سے بدل دیا تو مَاءٌ ہوگیا۔۔۔ اور یہ ہا کو ہمزہ سے بدلنا ایسے ہی ہے جیسے اِيَاكَ میں ہمزہ کو ہا سے بدل کر ھِيَّاكَ پڑھنا۔۔۔ بعض متقدمین نے اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ کو هِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ بھی پڑھا ہے ۔۔۔ معنی: پانی مادہ: م و ہ دلیل: یہی مادہ ہے اس پر دلیل یہ ہے کہ اس سے اسم مصغر مُوَيْهٌ آتا ہے اور اور جمع مکسر مِيَاهٌ اور اَمْوَاهٌ آتی ہے ۔۔۔