Posts

Showing posts with the label مضامین

Sirat e imam Bukhari Mohammad kamran raza gujarati

Image
سیرت امام بخاری علیہ الرحمہ از: محمد کامران رضا مھلیج گجرات متعلیم: جامعۃ المدینہ احمدآباد گجرات نام و نسبت اسم گرامی محمد، کنیت ابو عبد اللہ، لقب امیر المؤمنین فی الحدیث، حافظ الحدیث، ناصر الأحاديث النبویہ، سید الفقہاء والمحدثین، امام المسلمین۔ آپ کا سلسلہ نسب یہ ہے: محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرہ بن بَرْدِزُبہَ بخاری جعفی۔ آپ کے جد اعلیٰ مغیرہ نے حاکم بخارا کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا، اس لیے آپ کو جعفی کہا جاتا ہے۔ ولادت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 13 شوال 194ھ، جمعہ کے روز (ازبکستان کے ایک شہر) ”بخارا“ میں ہوئی۔ (نزھۃ القاری، ج:1، ص:50) امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے والد ماجد امام بخاری علیہ الرحمہ کے والد محترم حضرت اسماعیل بن ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد اور ولی کامل حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کے صحبت یافتہ تھے۔ ان کے تقویٰ و پرہیزگاری کا یہ عالم تھا کہ اپنے مال و دولت کو شبہات (ایسی چیزیں جن کے حلال یا حرام ہونے میں شبہ ہو) سے بچاتے۔ انتقال شریف کے وقت آپ نے ارشاد فرمایا: "میرے پاس جس قدر مال ہے، میرے ...

کتاب تذکرہ بناتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا اجمالی تعارف مؤلف: مولانا سلیم رضا مدنی متعارف: مولانا شعبان رضا امجدی

Image
کتاب: "تذکرہ بناتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم" کا اجمالی تعارف مؤلف: مولانا سلیم رضا مدنی متعارف: مولانا شعبان رضا امجدی "تذکرہ بناتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم" حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شہزادیوں کی سیرتِ طیبہ، فضائل و واقعات اور ان پر کیے جانے والے اعتراضات کے جوابات پر مبنی ایک تحقیقی دستاویز ہے۔ مؤلف کی یہ گراں قدر کاوش قارئین کے لیے نہایت مفید اور اہمیت کی حامل ہے۔ اس کتاب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار شہزادیوں کے مقام و مرتبے کو مدلل دلائل اور مستند حوالہ جات کے ساتھ بیان کرنے کے ساتھ ساتھ روافض کی جانب سے کیے گئے اعتراضات کا شاندار رد کیا گیا ہے۔ بابِ اول: دفعِ شبہات اس باب میں روافض کی طرف سے کیے گئے اُن اعتراضات کا مفصل اور مدلل جواب دیا گیا ہے، جو عام طور پر امت مسلمہ میں الجھن کا باعث بنتے ہیں، مثلاً: 1️⃣ اعتراض: کیا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صرف ایک بیٹی تھیں؟ ✅ اس اعتراض کا بھرپور علمی جواب دیتے ہوئے روافض کے دجل و فریب کو واضح کیا گیا ہے۔ 2️⃣ اعتراض: مباہلے کے موقع پر صرف حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ہی کیوں شریک ...

تعارفی تبصرہ مصنفین صحاح ستہ مولانا محمد ارقم رضا برکاتی ازہری فاضل جامعہ احسن البرکات، مارہرہ مقدسہ مدیر سہ ماہی القلم

Image
تعارفی تبصرہ   مصنفین صحاح ستہ  مولانا محمد ارقم رضا برکاتی ازہری    فاضل جامعہ احسن البرکات، مارہرہ مقدسہ ، مدیر : سہ ماہی القلم بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْم قرآن کریم، دین کے جملہ گوشوں کا مصدر اول ہے۔ اور حدیث رسول(ﷺ)، مصدر ثانی۔ حدیث شریف کے بنا ،قرآن کریم، اسلام، اور احکام اسلام کو سمجھنا نا ممکن ہے۔ زمانۂ رسالت سے لے کر آج تک، مسلمانوں نے، حدیث شریف کی خدمت میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ صحابۂ کرام، تابعین کرام، -رضوان اللہ علیہم اجمعین-، اور ان کے بعد ائمۂ کرام نے اپنی پوری پوری زندگیاں خدمتِ حدیث کے لیے وقف کر دیں۔ محدثین عظام میں چھ ہستیوں: (1) امام محمد بن اسماعیل بخاری (ت: ٢٣١ھ)،  (2) امام مسلم بن حجاج (ت: ٢٦١ھ) (3) امام ابو داؤد سجستانی (ت: ٢٧٥ھ)  (4) امام محمد بن عیسی ترمذی (ت: ٢٩٩ھ)،  (5) امام احمد بن شعیب نسائی (ت: ٣٠٣ھ)،  (6) امام ابن ماجہ قزوینی (ت: ٢٧٣ھ)؛ کو اور ان کی کتب ستہ: صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابو داؤد، سنن ترمذی، سنن نسائی، اور سنن ابن ماجہ کو سب سے زیادہ شہرت و مقبولیت ملی۔ حدیث شریف کے لیے یہ ...

ایک نئی کتاب دفاع صحابہ مرتب مولانا فرحان المصطفیٰ نظامی مدنی

Image
ایک نئی کتاب دفاع صحابہ  مرتب :  مولانا فرحان المصطفیٰ نظامی مدنی ✍🏻تبصرہ نگار: عمران رضا عطاری مدنی (بنارس) ◉~ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ~◉           یوں تو صدیوں سے صحابہ کرام کی شان و عظمت میں کتابیں تصنیف ہوتی آرہی ہیں، ابتدائی ادوار میں احادیث کی مختلف کتب میں فضائل الصحابہ کے عنوان سے صحابہ کرام کے مجموعی اور انفرادی فضائل بیان ہوتے رہے، پھر علما نے مستقل صحابہ کرام کے فضائل میں لکھنا شروع کیا، جس میں امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کی "فضائل الصحابہ" مشہور و معروف ہے، یوں سلسلہ چلتا رہا، ہر دور کی ضرورت و تقاضے کے مطابق صحابہ کی شان میں لکھا جاتا رہا، بالخصوص جس زمانہ میں روافض سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ پر تبرا کرنے لگے تو علما نے ان کی شان میں بیان کردہ احادیث اور فضائل کو نہ صرف لوگوں میں زبانی بیان کیا بلکہ تحریری میدان میں بھی اس کے جلوے بکھیرے۔  جب حضرت مولی علی رضی اللہ عنہ کی شان میں چہ می گوئیاں کی گئیں تو ان کی شان میں کئی کتابیں معرض وجود میں آئیں، جب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی ناموس پر حملہ ہونے لگا تو...

جرح و تعدیل کچھ ابتدائی باتیں جرح و تعدیل کی تعریفات فن حدیث جرح و تعدیل

Image
جرح و تعدیل کچھ ابتدائی باتیں   جرح و تعدیل کی تعریفات  جرح کا لغوی معنی زخمی کرنا ہے ۔ جب کہ اصطلاحی معنی ہے : وصف متى التحق بالراوي أو الشاهد سقط الاعتبار بقوله وبطل العمل به . ایسا وصف جو راوی یا شاہد (گواہ) کے ساتھ لاحق ہو تو اس کے قول کا اعتبار ساقط ہو جائے اور اس پر عمل باطل ۔  جرح کی یہ بھی تعریف کی گئی ہے : الطعن في الراوي بما يخل بعدالته أو ضبطه . راوی میں ایسا عیب بیان کرنا جو اس کی عدالت یا ضبط میں مخل ہو۔  (اکمال تہذیب الکمال، ج:۱، ص:۵)  تعدیل کا لغوی معنیٰ ترازو برابر کرنا ، تزکیہ کرنا ۔  جب کہ اصطلاحی معنی ہے : وصف متى التحق بالراوي أو الشاهد اعتبر قولهما و أخذ به . ایسا وصف جو جو راوی یا شاہد کو لاحق ہو تو ان کا قول معتبر ہو جائے یا اسے لے لیا جائے (یعنی اس پر عمل ہو)۔   (اکمال تہذیب الکمال، ج:۱، ص:۵) دوسری تعریف : تزكية الراوي والحكم عليه بأنه عدل أو ضابط . راوی کا تزکیہ (اس طرح تعریف) کرنا یا حکم لگانا کہ وہ عادل یا ضابط ہے۔   (منہج النقد ، ص:۹۲) جرح کا حکم : محدّثِ اشرفیہ علامہ صدر الوریٰ قادری مصباحی اپنی مشہور و مع...

حضور ﷺ کے امی ہونے کا معنی

Image
امی و دقیقہ دانِ عالم بے سایہ و سائبان عالم عام کسی بندے کو جب ”اُمی“ کہا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اسے پڑھنا لکھنا نہیں آتا۔ لیکن ہمارے نبی ایسے ”اُمی“ ہیں جو معلِم ِکائنات ہیں۔ جس جس کو پڑھنا لکھنا یا علم کا ایک قطرہ بھی ملاتو حضور کے قدموں کا صدقہ ملا۔  شیخ عبد العزیز دباغ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے فرمان کا خلاصہ ہے کہ: حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےرسم الخط اور لکھنے کے طور طریقے کسی انسان سے نہیں سیکھے بلکہ رب رحمن نے آپ کو سکھایا ہے۔اور نہ صرف لکھنا پڑھنا بلکہ وہ علوم عطا فرمائے جس کا کوئی انسان اندازہ بھی نہیں کر سکتا...۔( اَلرَّحْمٰنُۙ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَؕ۔۔۔۔ رحمٰن نے اپنے محبوب کو قرآن سکھایا ۔)  اور حضور کی امت میں ہونے والے بعض اولیاء کو اللہ نے یہ شان عطا فرمائی ہے کہ وہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک جتنی امتیں گزری ان سب امتوں کی زبانیں اور ان زبانوں کو لکھنے کا طرز بخوبی جانتے ہیں ۔ اور اولیاء کو یہ سب کچھ حضور کے نورکی برکت سے ملا ہے ۔  توجن کو نورِ نبی کا صدقہ ملے وہ تو تمام جہان کی زبانوں کا عالم بن جائے تو کیا اس نبی ...

تذکرۃ المصنفین ایک عظیم شاہکار مؤلف عمران رضا عطاری مدنی بنارس

Image
تذکرۃ المصنفین ایک عظیم شاہکار  مؤلف : عمران رضا عطاری مدنی (بنارس) ✍🏻 مولانا فرحان المصطفٰے نظامی مدنی شعبہ اختصاص فی الحدیث جامعۃ المدینہ ناگپور  علم دوست افراد کی پہلی پسند ثابت ہونے والا عظیم شاہکار "تذکرۃ المصنفین" مطالعہ کی میزپر ہے ،جو اپنی گونا گوں خصوصیات کے ساتھ منفرد شناخت کا حامل ہے گویا درس و تدریس اور مطالعہ کے شائقین کے لیے نوید صبح لے کر نمودار ہوا ہے، چوں کہ قاری کے لیے کسی کتاب یا صاحب کتاب سے متعارف ہونا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کتاب کے مضمون سے واقفیت ضروری ہے،بایں طور کہ قاری جس کتاب کو پڑھنے کا ارادہ رکھتا ہے اگر اس کتاب کے موضوعات اور مصنف کے حالات سے واقف ہو کر استفادہ کرےگا تو دلچسپی برقرا رہے گی اور اجنبیت کا شائبہ بھی نہیں ہوگا، مزید یہ کہ صاحبِ کتاب کے بارے میں جاننے سے ہمیں ان کا عقیدہ ،مسلک، طرز تعلیم و تعلم ،طریقۂ عبادت و ریاضت کا پتا چلے گا جس سے ہمارے دل میں ان کے لیے محبت پیدا ہوگی اور اور کتاب و صاحب کتاب کی برکتیں زندگی کا حصہ بنیں گی ۔ عرصہ دراز سے صاحبان درس و تدریس اس سوال کا جواب تلاش رہے تھے اور بڑی شدت سے اس امرکی...

مختصر تعارف اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں رحمۃ اللہ علیہ

Image
مختصر تعارف اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں رحمۃ اللہ علیہ۔ ولادت باسعادت مجدد اعظم، امام اہلسنت حسان الهند اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ 10سوال المکرم 1272ھ بروز شنبہ وقت ظہر مطابق 14 جون 1856ء کو بر یلی شریف محلہ جسولی انڈیا میں پیدا ہوئے ۔ آپ کا نام محمد ، آپ کے دادا نے احمدرضا کہہ کر پکارا اور اسی سے مشہور ہوئے آپ کے جد امجد مولا نا محمد رضا علی خان رحمۃ اللہ علیہ اور آپ کے والد مولانا نقی علی خان رحمۃ اللہ علیہ اپنے زمانہ کے پایہ کے بزرگ تھے۔ (حیات اعلی حضرت، ج1، ص44) تعلیم اور وقت حافظہ رسم بسم اللہ خوانی کے بعد اعلی حضرت کی تعلیم کا سلسلہ جاری ہو گیا ، آپ کی عمر چار برس کی تھی جب کہ عموماً دوسرے بچے اس عمر میں اپنے وجود سے بھی بے خبر رہتے ہیں؛ قرآن مجید ناظرہ ختم کر دیا، چھ سال کی عمر مبارک میں ربیع الاول شریف کے مہینے میں منبر پر جلوہ افروز ہو کر میلاد النبی صلى الله علیہ وسلم کے موضوع پر ایک جلسے میں تقریر فرما کر علمائے کرام اور مشائخ عظام سے تحسین و آفرین کی داد وصول کی۔ اسی عمر میں آپ نے بغداد شریف کے بارے میں سمت معلوم کر لی پھر تادم حیات بلده مبارکہ غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ ...

کتاب مصنفین صحاحِ ستہ اور کتب ستہ

Image
کتاب : مصنفین صحاحِ ستہ اور کتب ستہ آسان اور سہل انداز میں صحاح ستہ کے مصنفین کی سیرت، ان کی دیگر کتب کے نام، مشہور اساتذہ و تلامذہ کا ذکر خیر ، ساتھ میں صحاح ستہ کا اسلوب و منہج ، شروحات و حواشی کے نام اور بہت کچھ  پیش لفظ : جس میں خاص کتب کے منہج و اسلوب جاننے کے فوائد اور روایت حدیث کے فضائل کا مختصر بیان ہے کتاب کے شروع میں شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی شفیق الرحمن مصباحی [نگران مجلس تعلیمی امور انڈیا] کے دعائیہ کلمات بھی مسطور ہیں  سیرتِ امام بخاری اور صحیح بخاری کا منہج و اسلوب صحیح بخاری کی شروحات و حواشی سیرتِ امام مسلم اور صحیح مسلم کا منہج و اسلوب صحیح مسلم کی شروحات و حواشی  سیرتِ امام ابو داؤد اور سنن ابی داؤد کا منہج و اسلوب سنن ابی داؤد کی شروحات و حواشی سیرتِ امام ترمذی اور سنن ترمذی کا منہج و اسلوب سنن ترمذی کی شروحات و حواشی سیرتِ امام نسائی اور سنن نسائی کا منہج و اسلوب سنن نسائی کی شروحات و حواشی سیرتِ امام ابن ماجہ اور سنن ابن ماجہ کا منہج و اسلوب سنن ابن ماجہ کی شروحات و حواشی کتاب کے آخر میں دو گراں قدر مضمامین بھی شامل ہیں :  کیا صحیح احادیث صرف...

کیا یہ حدیث ہے : حب الوطن من الایمان

Image
کیا یہ حدیث ہے : حب الوطن من الایمان وطن سے محبت کرنے کے بارے میں جو حدیثیں وارد ہوئیں ہیں ان میں سے ایک حدیث مشہور "حب الوطن من الايمان “ بھی ہے، جس کا معنی ہے “وطن سے محبت ایمان کی علامت ہے”، بعض لوگ وطن سے محبت کرنے کے تعلق سے دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں ، کیا یہ حدیث ہے؟  جواب:  "حب الوطن من الإيمان "،جس کا معنی ہے" وطن کی محبت ایمان کی علامت ہے، وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے، کچھ لوگ وطن سے محبت کے متعلق اس جملے کو بطور حدیث ذکر کرتے ہیں،بلکہ بطور دلیل بھی پیش کرتے ہیں، اور حدیث کے طور پر یہ مشہور بھی ہے، لیکن محققین علما کے نزدیک یہ حدیث نہیں ہے، بلکہ موضوع(من گھڑت) ہے ۔ ہاں مفتی احمد خار نعیمی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے صوفیا کے قول کے طور پر ذکر کیا ہے، جہاں وطن سے یا تو جنت مراد ہے یا مدینہ منورہ ۔  آئیے ! اس متعلق محققین علما کی رائے جانتے ہیں۔ اس حدیث کے متعلق  امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :حديث: «حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الإِيمَانِ» لم أقف عليه. ترجمہ : حدیث حب الوطن... پر میں واقف نہ ہوا۔ (الدرر المنتثرة في الأحاديث المشتهرة، ص:108، طبع : جامع...