Posts

اسلاف کرام کو بُرا کہنے والے

Image
*اسلاف کرام کو بُرا کہنے والے*  حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ نے لوگوں کے مجمع ارشاد فرمایا کہ : دَعُوا حَدِيثَ عَمْرِو بْنِ ثَابِتٍ فَإِنَّهُ كَانَ يَسُبُّ السَّلَفَ   .  عمرو بن ثابت کی حدیث کو چھوڑ دو ! کیوں کہ وہ سلفِ کرام (گزرے ہوئے بزرگانِ دین) کو گالی دیتا (برا کہتا) تھا ۔  (صحیح مسلم، ج:1، ص:528، المطبوع مع الشرح للنووی ، دار المنھاج)  *معزز قارئین !* آج کل شوشل میڈیا پر بیسیوں گند پھیلانے والے افراد موجود ہیں جو مولانا مفتی ڈاکٹر بنکر ، بلکہ اب تو یونیورسٹی اور کالج کے لوندے دین سکھانے کے نام پر فتنوں کا بزار گرم کرکے لوگوں کے عقائد پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں ، کبھی غوث اعظم پر طعن ، کبھی خواجہ غریب نواز پر انگش نمائی، کبھی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنا ، کبھی کرامات اولیا پر عقلی گھوڑے دوڑاتے نظر آتے ہیں ، ہمیں ایسے لوگوں سے اجتناب کرنا چاہیے ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارا ایمان اُچک لیا جائے اور ہمیں کان و کان خبر تک نہ ہو۔  حضرت محمد بن سیرین رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا :  یہ علم دین ہے تم یہ دیکھو کہ اپنا دین کس سے...

والدین کی وفات کے بعد کے 12 حقوق

Image
والدین کی حقوق دین اسلام میں والدین کی اہمیت ،ان کے حقوق کا بالکل واضح اور صاف انداز میں بیان موجود ہے بلکہ اللہ پاک نے اپنی وحدانیت کے ساتھ والدین سے اچھا سلوک کرنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے ، اسلام نے والدین کے حقوق کی پاسداری نہ کرنے کی مذمت بھی بیان کی ہے تاکہ ہر شخص اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اپنے والدین کی خدمت کرے، ان سے بلند آواز میں بات نہ کرے، ان کی ہر جائز خواہشات اور حکم کو پورا کرنے کی کوشش کرے، جس کام سے منع کریں اس سے باز آجائے، پڑھاپے میں خصوصیت کے ساتھ ان کی خدمت کرنے کا حکم دیا ہے ، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :  وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ-اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا.   ترجمۂ کنز الایمان : اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تیرے سامنے ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے ہُوں نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور...

کتاب معارف علم غیب

Image
کتاب معارف علم غیب  مرتّبہ : مولانا ارسلان احمد مصباحی (بنارسی) 16 ذو الحجہ 23 جون / بروز اتوار عزیز گرامی وقار مولانا ارسلان مصباحی (مدن پورہ) کے گھر بغرض ملاقات حاضر ہوئی ، مختلف ٹوپک پر تبادلۂ خیال ہوا ، اسی دوران موصوف نے اپنی تصنیف لطیف بنام `"معارف علم غیب"` عطا فرمائی ، یہ کتاب ہند کے مشہور اشاعتی مکتب صراط پبلیکیشنز [مراد آباد] سے شائع ہوئی ہے، کتاب کا سرِ ورک جہاں دیدہ زیب ہے وہیں کتاب کے صفحات ، فارمیٹنگ بھی بہترین انداز پر کی گئی ہے ، موصوف نے شروع میں کسی دوسرے موضوع پر لکھنے کا ارادہ کیا تھا مگر حضرت علامہ عبد المبین نعمانی مصباحی حفظہ اللہ نے عقائد پر کچھ لکھنے کا حکم دیا، چناں چہ کم وقت ہی میں علم غیب جیسے مشہور موضوع پر کتاب تیاری کرکے حضرت نعمانی صاحب کی بارگاہ میں بغرض تصحیح پیش کی ، حضرت نے محبت و شفقت کا اظہار کرتے ہوئے کتاب کی اول تا آخر تصحیح فرماکر تقریظ بھی عطا فرمائی ، ساتھ میں بدر الفقہا علامہ مفتی بدر عالم مصباحی [ پرنسپل : الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور ] نے بھی کتاب پر تقریظ عطا فرمائی ہے ۔ جس سے کتاب کی اہمیت کو مزید چار چاند لگ گئے ۔  کتاب اپنے موضو...

فینشی بالوں پر ایک نظر

Image
فینشی بالوں پر ایک نظر ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ از : عمران رضا عطاری مدنی بنارسی  شعبہ تخصص فی الحدیث ناگپور  ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ آج کل اکثر نوجوانوں کا بال رکھنے کا انداز سمجھ سے بالا تر ہے ، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ نبی اکرم ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے زلفیں رکھتے : کبھی آدھے کان کی لو تک ، کبھی پورے کان کی لو تک، کبھی اتنے بڑھاتے کہ شانوں کو چومنے لگیں، مگر افسوس کہ آج کل بال رکھنے میں نبی اکرمﷺ کے دشمنوں: یہود و نصارٰی کے اسٹائل پر عمل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، کسی نے آدھے بال کٹوائے آدھے چھوٹ دیے، کسی کے آگے کے بال بڑے بڑے تو پچھے کے بالکل چھوٹے ، کسی نے بالوں میں عجیب و غریب انداز میں کٹ لگایا ہوا ہے حالاں کہ ہمارے پیارے دین اسلام میں اس طرح فاسقوں جیسی صورت بنانے ان کے انداز پر بال رکھنے سے منع کیا گیا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ایک بچے کو دیکھا کہ جس کے سر کے کچھ بال کو مونڈ دیا گیا تھا جب کہ بعض جگہ کے بال چھوڑے ہوئے تھے، آپ نے اس سے منع فرمایا اور ارشاد فرمایا : ...

خواجہ سرا (ہجڑا) اسلام کی نظر میں

Image
خواجہ سرا (ہجڑا) اسلام کی نظر میں  ___________________________________ از : عمران رضا عطاری مدنی بنارسی  شعبہ تخصص فی الحدیث ناگپور ___________________________________ خواجہ سراوں کے حقوق     چہار جانب نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ فی زمانہ ہجڑوں کو اہمیت دینا تو دور کی ان کو زمانے کا ناسور سمجھا جاتا ہے ،پھر ان کو تکلیف دینا ، برا بھلا کہنا وغیرہ لوگ اپنا حق سمجھتے ہیں حالاں کہ قرآن پاک و حدیث نے ہمیں اس بات کا پابند کیا ہے کہ کسی مسلمان کو ایذا نہ دی جائے۔حتی کہ ایک خنثٰی کا مضمون پڑھنے کو ملا جس میں اس نے یہ درد بھرے انداز میں بیان کیا کہ گھر ہو یا باہر ، ہر طرف اسے ذلت و رسوائی اور بے عزتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے ان سے خودکشی کرنے کا فیصلہ کرلیا ……. الخ  یہ ماحول اس وجہ سے بن رہا ہے کہ لوگوں نے تعلمات اسلام پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے وگرنہ اسلام نے کب اس بات کی اجازت دی ہے کہ دوسوں کی عزتیں پامال کی جائیں ، اسلام نے تو ایک دوسرے تکلیف دینے ، مذاق اڑانے اور ایک دوسرے پر ہنسنے سے بھی منع فرمایا ہے۔  لیکن یہاں قابل غور بات یہ بھی یہ ہے موجودہ د...

Kya janwaron ko zabah karna un par zulm hai?

Image
  Kya janwaron ko zabah karna un par zulm hai? ✒️🖇️: *Muhammad Arif Raza Madani _____________________________________ *Sawal* Janwar ko zabah karna ghair fitri amal hai. Qudrat ne unhe zindagi di hai to insano ko koi haq nahi ke woh unki zindagi ko khatam kar de. *الجواب بعون الملک الوھاب* Janwaron ke zabah ke amal ko ghair fitri aur zulm qarar dena hikmat e Ilahi (حکمت الہی) se nawaqifiyat ki daleel hai. Is ko hum darj zail muqaddamon mein bayan karenge: (1) Janwar do tarah ke hain: (1) Jo aql o sha'oor rakhne wale ya taqatwar hain. Yeh apni taqat o quwwat aur apni chaalaki ke zariye apni ghiza hasil kar lete hain jaise sher, cheetah, kutte, billiyan waghera. Yeh janwar apni ghiza hasil karne mein insano ke mohtaaj nahi. Neiz yeh apni hifazat khud kar lete hain aur yeh apni hifazat mein dosron ke mohtaaj nahi hain. (2) Woh janwar jo na to taqat o quwwat rakhte hain aur na hi aql o sha'oor jiske zariye apna rizq hasil kar saken, balki inka rizq insano par munhasir hai jaise ba...

کیا جانوروں کو ذبح کرنا ان پر ظلم ہے

Image
  کیا جانوروں کو ذبح کرنا ان پر ظلم ہے ✒️🖇️ : محمد عارف رضا مدنی  _______________________     سوال  جانور کو ذبح کرنا غیر فطری عمل ہے قدرت نے اسے زندگی دی ہے تو انسانوں کو کوئی حق نہیں ہے کہ وہ ان کی زندگی کو ختم کر دے   الجواب بعون الملک الوھاب  جانوروں کے ذبح کے عمل کو غیر فطری اور ظلم قرار دینا حکمت الہی سے ناواقفیت کی دلیل ہے اس کو ہم درج ذیل مقدموں میں بیان کریں گے  (1) جانور دو طرح کے ہیں (1) جو عقل و شعور رکھنے والے یا طاقتور ہیں یہ اپنی طاقت و قوت اور اپنی چالاکی کے ذریعے اپنی غذا حاصل کر لیتے ہیں جیسے شیر چیتا کتے بلیاں وغیرہ یہ جانور اپنی غذا حاصل کرنے میں انسانوں کے محتاج نہیں نیز یہ اپنی حفاظت خود کر لیتے ہیں یہ اپنی حفاظت میں دوسروں کے محتاج نہیں ہیں (2) وہ جانور جو نہ تو طاقت و قوت رکھتے ہیں اور نہ ہی عقل و شعور جس کے ذریعے اپنا رزق حاصل کر سکیں بلکہ ان کا رزق انسانوں پر منحصر ہے جیسے کہ بکری بہنس وغیرہ نیز یہ اپنی حفاظت میں بھی انسانوں کے محتاج ہیں (2) انسان عمومی طور پر مفاد پرست واقع ہوا ہے وہ ہر چیز میں اپنا فائدہ ...