تاجُ الشریعہ اور یادِ مدینہ مولف: مولانا عمران رضا مدنی بنارسی نبی اکرم ﷺ سے محبت کرنے والوں کو حضور ﷺ سے نسبت رکھنے والی ہر ہر چیز سے محبت ہوتی ہے۔ حضرت تاجُ الشریعہ نہ صرف عاشقِ رسول بلکہ عاشقِ رسول بنانے والے تھے، آپ سے وابستہ ہو کر ہزاروں کے دل عشقِ رسول سے سرشار ہو گئے۔ چونکہ شہرِ مصطفیٰ مدینۂ منورہ کو خاص نسبت ہے نبی اکرم ﷺ سے، خود ہمارے آقا ﷺ مدینۂ منورہ سے حد درجہ محبت فرمایا کرتے تھے، تو عاشقانِ رسول بھی مدینۂ منورہ سے ٹوٹ کر محبت کرتے ہیں۔ اس جہت سے حضور تاجُ الشریعہ کی ذات کو دیکھیں تو آپ کو بھی مدینۂ منورہ سے انتہا درجے کی محبت تھی۔ صرف آپ کے نعتیہ دیوان "سفینۂ بخشش" کو دیکھیں تو معلوم ہو کہ جگہ بہ جگہ محبتِ مدینہ پر اشعار یہ بتا رہے ہیں کہ آپ کو عشقِ مدینہ کس قدر حاصل تھا۔ فراقِ مدینہ میں آپ فرماتے ہیں: فرقتِ طیبہ کی وحشت دل سے جائے خیر سے میں مدینے کو چلوں وہ دن پھر آئے خیر سے دل میں حسرت کوئی باقی رہ نہ جائے خیر سے راہِ طیبہ میں مجھے یوں موت آئے خیر سے میرے دن پھر جائیں یا رب شب وہ آئے خیر سے دل میں جب ماہِ مدینہ گھر بنائے خیر...
سیرتِ حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ از قلم: محمد کامران رضا گجراتی متعلم: جامعۃ المدینہ فیضان اولیاء، احمدآباد، گجرات دنیا میں کچھ شخصیات ایسی بھی ہوتی ہیں، جو اپنے تعارف میں کسی کے محتاج نہیں ہوتیں، بلکہ ان کی ذات، نام اور کام ہی ان کی پہچان و تعارف بن جاتا ہے۔ انہی شخصیات میں ایک شخصیت وارثِ علومِ اعلیٰ حضرت، جانشینِ حضور مفتی اعظم ہند، قاضی القضاۃ فی الہند، حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ مولانا مفتی اختر رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کی ہے۔ آپ وارثِ علومِ اعلیٰ حضرت، حضور حجۃ الاسلام کے مظہر، حضور مفتی اعظم ہند کے سچے جانشین اور مفسرِ اعظم ہند کے لختِ جگر ہیں۔ ان عظیم نسبتوں کا فیضان آپ کی شخصیت میں جھلک رہا ہے۔ اب ہم آپ علیہ الرحمہ کی سیرت مختصر انداز میں پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ولادت با سعادت آپ کی ولادت با سعادت کاشانۂ رضا، محلہ سوداگران، بریلی میں 14 ذی القعدہ 1361ھ مطابق 23 نومبر 1942ء ، بروز منگل ہوئی۔ (فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد 1، ص 28) اسمِ گرامی آپ حضرت مفسرِ اعظم ہند، حضرت علامہ محمد ابراہیم رضا رحمۃ اللہ علیہ کے فرزندِ ارجمند ہیں۔ دستورِ خاندان کے مط...
غم سے دوچار ہیں فلسطینی از:مصباحُ الحق قادری مدنی راغب فیضِ سرکار ہیں فلسطینی، عاشقِ زار ہیں فلسطینی۔ فقر و فاقہ کی دھوپ ہے سر پر، آہ! نادار ہیں فلسطینی۔ المدد دافعِ غمِ ملّت، غم کے کہسار ہیں فلسطینی۔ غمگسارِ جہاں دہائی ہے، غم سے دوچار ہیں فلسطینی۔ اے نگہبانِ کشتیٔ اُمت! قربِ منجدھار ہیں فلسطینی۔ آہ! وہ بنتِ حوّا کی چادر، سرِ بازار ہیں فلسطینی۔ ہے فلسطین میری آنکھوں میں، ذہن و افکار ہیں فلسطینی۔ لفظ، خُونِ الم سے ہے رنگیں، میرے اشعار ہیں فلسطینی۔ حشر میں دیکھ لیں گے ظالم بھی، جیت یا ہار ہیں فلسطینی۔ تیغِ انصاف سے ستم کا بھی، کاٹتے ہار ہیں فلسطینی۔ خاک آلود ناک ہو اُس کی، جو کہے خوار ہیں فلسطینی۔ ظلم کی داستان مت چھیڑو، لب پہ، اے یار! ہیں فلسطینی۔ کوہِ صبر و رضا بھی وہ ٹھہرے، نیک اطوار ہیں فلسطینی۔ جامِ عشقِ شہِ دو عالم بھی، پی کے سرشار ہیں فلسطینی۔ نوکِ تیر و کماں پہ بھی کرتے، ذکرِ غفار ہیں فلسطینی۔ دامنِ صبر بھی ہے ہاتھوں میں، اہلِ کردار ہیں فلسطینی۔ شکوۂِ رنج بھی نہیں کرتے، شیریں گفتار ہیں فلسطینی۔ وہ ہیں دینِ الٰہی کے فوجی، حزبِ غفار ہیں فلسطینی۔ دشمنانِ نبی کو بھی کرتے، ...
Comments
Post a Comment