تاجُ الشریعہ اور یادِ مدینہ مولف: مولانا عمران رضا مدنی بنارسی نبی اکرم ﷺ سے محبت کرنے والوں کو حضور ﷺ سے نسبت رکھنے والی ہر ہر چیز سے محبت ہوتی ہے۔ حضرت تاجُ الشریعہ نہ صرف عاشقِ رسول بلکہ عاشقِ رسول بنانے والے تھے، آپ سے وابستہ ہو کر ہزاروں کے دل عشقِ رسول سے سرشار ہو گئے۔ چونکہ شہرِ مصطفیٰ مدینۂ منورہ کو خاص نسبت ہے نبی اکرم ﷺ سے، خود ہمارے آقا ﷺ مدینۂ منورہ سے حد درجہ محبت فرمایا کرتے تھے، تو عاشقانِ رسول بھی مدینۂ منورہ سے ٹوٹ کر محبت کرتے ہیں۔ اس جہت سے حضور تاجُ الشریعہ کی ذات کو دیکھیں تو آپ کو بھی مدینۂ منورہ سے انتہا درجے کی محبت تھی۔ صرف آپ کے نعتیہ دیوان "سفینۂ بخشش" کو دیکھیں تو معلوم ہو کہ جگہ بہ جگہ محبتِ مدینہ پر اشعار یہ بتا رہے ہیں کہ آپ کو عشقِ مدینہ کس قدر حاصل تھا۔ فراقِ مدینہ میں آپ فرماتے ہیں: فرقتِ طیبہ کی وحشت دل سے جائے خیر سے میں مدینے کو چلوں وہ دن پھر آئے خیر سے دل میں حسرت کوئی باقی رہ نہ جائے خیر سے راہِ طیبہ میں مجھے یوں موت آئے خیر سے میرے دن پھر جائیں یا رب شب وہ آئے خیر سے دل میں جب ماہِ مدینہ گھر بنائے خیر...
* کتاب "حجیت فقہ" کی خصوصیات و اہمیت * *از : عمران رضا عطاری مدنی* تخصص فی الحدیث (ناگپور ) استاذ العلما مفتی انس رضا عطاری مدنی حفظہ اللہ کی ایک علمی کتاب بنام حجّیت فقہ اپنے موضوع پر لاجواب کتاب ہے ۔ مفتی صاحب قبلہ نے مذکورہ کتاب درج ذیل چیزوں پر خاص تبصرہ فرمایا ہے : ✿ فقہ کی حُجّیت کا قرآن وحدیث سے ثبوت ۔ ✿ غیر مقلدوں اور ان کی تفقہ کا تنقیدی جائزہ ✿ تقلید اجتهاد فقہ کی تاریخ فتوی کے متعلق معلومات ✿ عصر حاضر میں فقہ پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات ✿ فقہ کے مآخذ، فقہی اختلاف کی وجوہات، اختلاف میں ترجیح کے اصول ۔ مقلدین کے لیے بہترین تحفہ ہے ، فقہ پر بے سر و پا اعتراضات کرنے والوں کو مُسکت جواب دیا گیا۔ خاص طور پر طلبہ اور فارغ التحصیل حضرات اس کتاب کو مطالعہ میں رکھیں ان شاء اللہ بہت سارے علمی فوائد حاصل ہوں گے۔ مفتی صاحب کتاب کے متعلق لکھتے ہیں : الحمد للہ عزوجل ! اس پوری کتاب میں اس بات کو کثیر مستند دلائل سے ثابت کیا ہے کہ شریعت محمدیہ علیہ الصلوۃ والسلام میں فقہ کا ایک مقام و مرتبہ ہے۔ ضروری نہیں کہ مسئلہ کا جواب قرآن وحدیث میں صراحتاً موجود ...
سیرتِ حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ از قلم: محمد کامران رضا گجراتی متعلم: جامعۃ المدینہ فیضان اولیاء، احمدآباد، گجرات دنیا میں کچھ شخصیات ایسی بھی ہوتی ہیں، جو اپنے تعارف میں کسی کے محتاج نہیں ہوتیں، بلکہ ان کی ذات، نام اور کام ہی ان کی پہچان و تعارف بن جاتا ہے۔ انہی شخصیات میں ایک شخصیت وارثِ علومِ اعلیٰ حضرت، جانشینِ حضور مفتی اعظم ہند، قاضی القضاۃ فی الہند، حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ مولانا مفتی اختر رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کی ہے۔ آپ وارثِ علومِ اعلیٰ حضرت، حضور حجۃ الاسلام کے مظہر، حضور مفتی اعظم ہند کے سچے جانشین اور مفسرِ اعظم ہند کے لختِ جگر ہیں۔ ان عظیم نسبتوں کا فیضان آپ کی شخصیت میں جھلک رہا ہے۔ اب ہم آپ علیہ الرحمہ کی سیرت مختصر انداز میں پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ولادت با سعادت آپ کی ولادت با سعادت کاشانۂ رضا، محلہ سوداگران، بریلی میں 14 ذی القعدہ 1361ھ مطابق 23 نومبر 1942ء ، بروز منگل ہوئی۔ (فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد 1، ص 28) اسمِ گرامی آپ حضرت مفسرِ اعظم ہند، حضرت علامہ محمد ابراہیم رضا رحمۃ اللہ علیہ کے فرزندِ ارجمند ہیں۔ دستورِ خاندان کے مط...
Comments
Post a Comment